ہر انسان کے پاس ایک سایہ دار انسان کیوں ہونا چاہیے؟ تحریر فرحین ریاض

 

ہر انسان کے پاس ایک سایہ دار انسان کیوں ہونا چاہیے؟

ہر انسان کی زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو ناموں کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ وہ رشتے ہوتے ہیں جو لفظوں سے پہلے احساس بن کر دل میں اترتے ہیں، جو شور میں خاموشی اور تنہائی میں سکون بن جاتے ہیں۔ انسان جتنا بھی مضبوط، خوددار اور خود کفیل کیوں نہ ہو، اس کے اندر ایک ایسا گوشہ ضرور ہوتا ہے جو تھک جاتا ہے، بکھر جاتا ہے اور کسی ایسے سائے کی تلاش میں ہوتا ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف، بغیر کسی بناوٹ اور بغیر کسی حساب کے بیٹھ سکے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک سایہ دار انسان کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

سایہ دار انسان سے مراد وہ شخص نہیں جو صرف اچھے وقت کا ساتھی ہو، بلکہ وہ ہستی ہے جو زندگی کی دھوپ میں جلے ہوئے وجود کو ٹھنڈک فراہم کرے۔ جو یہ نہ پوچھے کہ کیوں کمزور ہو، بلکہ خاموشی سے سن لے۔ جو ہر بات کا حل نہ بھی دے سکے تو کم از کم یہ یقین ضرور دلائے کہ تم اکیلے نہیں ہو۔

دنیا کی تھکن اور انسان کا باطن

آج کا انسان بظاہر بہت مصروف ہے، لیکن اندر سے اتنا ہی خالی بھی ہے۔ وہ روزانہ بے شمار چہروں سے ملتا ہے، بے شمار باتیں کرتا ہے، مگر جب رات تنہائی لے کر آتی ہے تو دل کے بوجھ بڑھ جاتے ہیں۔ تعلقات، ذمہ داریاں، مقابلہ، خود کو ثابت کرنے کی دوڑ—یہ سب انسان کو اندر سے نچوڑ لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کے سامنے انسان اپنے آنسوؤں کو کمزوری نہ سمجھے، تو یہ تھکن آہستہ آہستہ روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

سایہ دار انسان وہ ہوتا ہے جو انسان کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ تھک سکتا ہے، وہ ہار سکتا ہے، وہ خاموش ہو سکتا ہے۔ اس کے سامنے انسان کو مضبوط بننے کی اداکاری نہیں کرنی پڑتی۔

اعتماد: سایہ دار رشتے کی بنیاد

ہر رشتہ سایہ دار نہیں ہوتا۔ سایہ دار رشتہ اعتماد کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ اعتماد ہے جو وقت کے ساتھ بنتا ہے، آزمائشوں سے گزرتا ہے اور خاموشی میں مضبوط ہوتا ہے۔ انسان اپنے دل کے زخم ہر کسی کو نہیں دکھا سکتا، کیونکہ ہر شخص مرہم بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کچھ لوگ لاپرواہی سے زخموں کو مزید گہرا کر دیتے ہیں، اور کچھ لوگ باتوں کو ہتھیار بنا لیتے ہیں۔

سایہ دار انسان کی پہچان یہی ہے کہ اس کے پاس کہی گئی ہر بات، ہر درد، ہر کمزوری وہیں دفن رہتی ہے۔ نہ وہ باتیں بازار کا حصہ بنتی ہیں، نہ کسی تیسرے کان تک پہنچتی ہیں۔ یہی تحفظ انسان کو کھل کر بولنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

جہاں خوف نہ ہو، صرف مان اور عزت ہو

سایہ دار انسان کے سائے میں بیٹھنے کا سب سے بڑا سکون یہ ہوتا ہے کہ وہاں خوف نہیں ہوتا۔ نہ یہ خوف کہ بات کا مذاق اڑایا جائے گا، نہ یہ ڈر کہ کمزوری کو طعنہ بنایا جائے گا، اور نہ ہی یہ اندیشہ کہ کسی دن یہی باتیں ہتھیار بن کر سامنے آئیں گی۔

ایسے رشتے میں عزت بنیادی عنصر ہوتی ہے۔ اختلاف ہو سکتا ہے، مشورہ دیا جا سکتا ہے، لیکن تحقیر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ سایہ دار انسان سامنے والے کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ اسے قبول کرتا ہے—اس کی خامیوں سمیت۔

خاموشی بھی ایک گفتگو ہے

ہر درد لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کو صرف کسی کے پاس بیٹھنا ہوتا ہے، بغیر کچھ کہے۔ سایہ دار انسان اس خاموشی کو سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کب سوال نہیں کرنے، کب نصیحت نہیں دینی، اور کب صرف موجود رہنا کافی ہوتا ہے۔

یہ موجودگی ہی اصل سہارا ہوتی ہے۔ ایک ایسا احساس کہ اگر آج میں بکھر بھی گیا تو کوئی ہے جو مجھے سمیٹ لے گا، بغیر یہ پوچھے کہ کیوں ٹوٹے۔

رشتوں کی بھیڑ میں تنہا انسان

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں رشتے تو بہت ہیں، مگر سایہ دار رشتے نایاب ہیں۔ سوشل میڈیا، رسمی تعلقات اور مفادات نے انسان کو گھیر تو لیا ہے، مگر اس کے دل کے اندر اترنے والا کوئی کم ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے انسان ہجوم میں بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔

سایہ دار انسان کسی رشتے کے نام کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ دوست بھی ہو سکتا ہے، شریکِ حیات بھی، بہن بھائی بھی، یا کبھی کبھار کوئی ایسا شخص جو خون کے رشتے میں نہ ہو، مگر دل کے سب سے قریب ہو۔

سایہ دار انسان اور ذہنی سکون

نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو ہر انسان کو ایک محفوظ جذباتی پناہ گاہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا شخص جس کے ساتھ جذبات شیئر کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہو، دل ہلکا ہو اور خود سے جڑے رہنے کا حوصلہ ملے۔ سایہ دار انسان دراصل انسان کی ذہنی صحت کا محافظ ہوتا ہے۔

وہ انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف ذمہ داریوں اور مسائل کا نام نہیں، بلکہ احساسات کا بھی حق ہے۔ رو لینا، رک جانا، کمزور پڑ جانا—یہ سب انسان ہونے کی علامتیں ہیں، ناکامی کی نہیں۔

اگر سایہ دار انسان نہ ہو؟

جس انسان کے پاس کوئی سایہ دار انسان نہیں ہوتا، وہ اکثر خود سے لڑتا رہتا ہے۔ وہ اپنے درد کو خود ہی سنبھالتا ہے، اپنے سوالوں کے جواب خود ہی ڈھونڈتا ہے۔ بظاہر یہ خودداری لگتی ہے، مگر اندر ہی اندر یہ تنہائی انسان کو تھکا دیتی ہے۔

اسی لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سایہ دار انسان کا ہونا عیش نہیں، ضرورت ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو اگر مل جائے تو زندگی کے سخت ترین دن بھی گزارے جا سکتے ہیں۔

خود بھی کسی کا سایہ بننا

جس طرح ہمیں ایک سایہ دار انسان کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ہمیں خود بھی کسی کے لیے سایہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سننا سیکھیں، راز رکھنا سیکھیں، بغیر جج کیے ساتھ دینا سیکھیں۔ کیونکہ دنیا میں جتنی دھوپ بڑھی ہے، اتنے ہی سائے کم ہو گئے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان کے پاس ایک سایہ دار انسان ضرور ہونا چاہیے—ایسا انسان جس کے سائے میں وہ چند لمحے سستا سکے، خود کو سمیٹ سکے، اور پھر زندگی کی دھوپ میں دوبارہ کھڑا ہو سکے۔ جہاں عزت ہو، مان ہو، اور یہ یقین ہو کہ یہاں کہی گئی ہر بات، ہر درد، ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے۔

یہی سایہ دار انسان زندگی کی اصل دولت ہوتے ہیں، اور جو اس دولت کو پا لے، وہ واقعی خوش نصیب ہوتا ہے۔

Post a Comment