میرے پاس وقت نہیں۔ تحریر فرحین ریاض

تحریر فرحین ریاض ۔۔۔۔۔۔
 خواتین خانہ، خاص طور پر وہ خواتین جو گھریلو امور کی دیکھ بھال کرتی ہیں، اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ "آپ کے پاس تو بہت وقت ہوتا ہے، آپ گھر پر ہی تو ہوتی ہیں۔" لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس وقت نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں۔ اکثر اوقات انہیں خود سے بھی یہ سننے کو ملتا ہے کہ "جب کچھ کیا ہی نہیں، تو وقت کہاں گیا؟" یہ سوال سننے میں آسان لگتا ہے، لیکن یہ ایک پیچیدہ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جو کہ ہر گھریلو خاتون کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔

 دن کا آغاز: گھر کی مشینری کا پہلا پہیہ

خواتین خانہ کا دن اکثر صبح سویرے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ صبح کے وقت بچوں کو اسکول بھیجنا، ناشتہ تیار کرنا، اور شوہر کو دفتر روانہ کرنا، یہ سب معمولات کا حصہ ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جو صبح کے وقت کسی بھی خاتون خانہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کاموں میں غفلت کا مظاہرہ ممکن نہیں ہوتا۔

یہاں سے دن کی ایک لمبی فہرست کا آغاز ہوتا ہے جس میں ہر چھوٹا بڑا کام اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وقت کوئی کام نہ ہونے کا نہیں بلکہ کاموں کے آغاز کا ہوتا ہے۔ ناشتہ تیار کرنا بظاہر ایک آسان کام لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک منظم منصوبہ بندی ہوتی ہے: کیا بنانا ہے؟ کیا چیزیں دستیاب ہیں؟ کون کون سے کام ساتھ ساتھ کیے جا سکتے ہیں؟ یہ سب فیصلے کرنے میں وقت لگتا ہے اور خاتون خانہ کا ذہن مسلسل مصروف رہتا ہے۔

 گھر کی صفائی اور نظم و ضبط

ایک مسلسل جدوجہد

ناشتے کے بعد گھر کی صفائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ گھر کی صفائی محض ایک معمولی کام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ ہر چیز کو اپنی جگہ پر رکھنا، دھول مٹی کا صاف کرنا، فرش کی صفائی، اور باتھ رومز کو صاف ستھرا رکھنا یہ سب وہ کام ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

گھر کو صاف ستھرا اور منظم رکھنا خاتون خانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ کام وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ جیسے جیسے دن گزرتا ہے، گھر کی حالت بدلتی جاتی ہے، اور پھر خاتون خانہ کو دوبارہ وہی کام کرنا پڑتا ہے جو صبح کیا تھا۔ بچوں کی چیزیں، کھیل کے سامان، کتابیں، اور کپڑے ہر جگہ پھیلے ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ ترتیب دینا ہوتا ہے۔

 کھانا پکانا: محبت اور محنت کا ملاپ

خواتین خانہ کے لیے کھانا پکانا ایک روزمرہ کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے بھی بہت سی محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانا تیار کرنے کے لیے پہلے ضروری سامان کا انتظام کرنا ہوتا ہے، پھر اس کے بعد کھانے کی تیاری شروع ہوتی ہے۔

کھانے کی تیاری کے دوران خاتون خانہ کو ہر چیز کا خیال رکھنا ہوتا ہے: کیا پکایا جائے؟ کتنی مقدار میں بنایا جائے؟ کون کون سی چیزیں استعمال کی جائیں؟ کھانا بنانے کے دوران گیس کی نگرانی، وقت کی پابندی، اور کھانے کا ذائقہ برقرار رکھنا یہ سب کام وقت لیتے ہیں اور اس کے باوجود یہ کام بار بار کیے جاتے ہیں۔

بچوں کی دیکھ بھال: ایک نازک ذمہ داری

بچوں کی دیکھ بھال خاتون خانہ کی ایک اور اہم ذمہ داری ہے۔ بچوں کو کھانا کھلانا، انہیں سکھانا، ان کی صحت کا خیال رکھنا، اور ان کے ساتھ وقت گزارنا یہ سب کام وقت اور توجہ کی متقاضی ہیں۔ بچوں کی ضروریات اور ان کی پرورش ایک مسلسل عمل ہے جو کبھی رک نہیں سکتا۔

خاتون خانہ کو بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، ان کے ہوم ورک میں مدد کرنا، ان کی پڑھائی کے لیے وقت نکالنا، اور ان کے ساتھ کھیل کود میں شامل ہونا یہ سب کام ہیں جو وقت لیتے ہیں اور خاتون خانہ کے دن کا ایک بڑا حصہ ان میں گزرتا ہے۔

سماجی ذمہ داریاں: تعلقات کی بقاء

خواتین خانہ کے لیے سماجی ذمہ داریاں بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ خاندان، دوستوں، اور پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا، مہمانوں کا استقبال کرنا، شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں شرکت کرنا، یہ سب ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

یہ سماجی سرگرمیاں نہ صرف وقت کی پابند ہوتی ہیں بلکہ ان کے لیے خاص تیاری کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مہمانوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرنا، گھر کی صفائی اور سجاوٹ کرنا، اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا یہ سب کام وقت لیتے ہیں اور خاتون خانہ کے دن کا ایک بڑا حصہ ان میں گزرتا ہے۔

اپنی ذات کی پرورش: خود کو وقت دینا

خواتین خانہ کے لیے اپنی ذات کی پرورش ایک اہم پہلو ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ اپنی ذات کو وقت دینا، اپنی صحت کا خیال رکھنا، اپنے شوق پورے کرنا، اور اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان حاصل کرنا یہ سب ان کے لیے ضروری ہے۔

لیکن یہ سب کام صرف اسی صورت ممکن ہیں جب خاتون خانہ کے پاس وقت ہو، اور بدقسمتی سے، ان کے دن بھر کے کاموں کی فہرست اتنی طویل ہوتی ہے کہ ان کے لیے اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 

"کچھ نہیں کیا" کا مطلب

جب خاتون خانہ کہتی ہیں کہ "کچھ نہیں کیا"، تو دراصل یہ اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ ان کا سارا دن کاموں میں گزرا اور ان کے پاس اپنے لیے یا کسی بڑے کام کے لیے وقت نہیں بچا۔ ان کے دن بھر کے چھوٹے چھوٹے کام جنہیں عموماً لوگ "کچھ نہیں" سمجھتے ہیں، ان کی وجہ سے ہی ان کا دن گزرتا ہے۔

خواتین خانہ کے لیے وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہے، لیکن ان کے لیے وقت کا انتظام ایک چیلنج ہے۔ ان کے روزمرہ کے کام، ذمہ داریاں، اور سماجی تقاضے ان کی زندگی کا حصہ ہیں، اور ان کی محنت اور قربانیوں کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ اگرچہ انہیں اکثر "کچھ نہیں کیا" کے طعنے سننے کو ملتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور کام زیادہ۔ 

یہ ضروری ہے کہ ہم خواتین خانہ کی محنت، قربانی، اور وقت کی قدر کریں اور انہیں ان کے کاموں کا احترام دیں۔ انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ جو کچھ کرتی ہیں وہ نہ صرف اہم ہے بلکہ اس کی تعریف اور ستائش کی جانی چاہیے۔ خواتین خانہ کے بغیر ایک گھر کا تصور ممکن نہیں، اور ان کی محنت کے بغیر ایک خوشحال خاندان کا تصور ادھورا ہے۔

آج کم و بیش ہر ایک کا خواہ وہ مرد ہو یا عورت سب سے بڑا رشتہ بس اپنے اپ سے ہے وہ اپنے ہی جذبات اور خواہشات کے حصار میں ایسے قید ہیں کہ کسی دوسرے کے لیے سوچنا یا وقت نکالنا مشکل ہو گیا ہے چاہے وہ خون کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو ہو مادیت پسند زمانے میں ہر شخص افر تفری کا شکار ہے مصروفیت کے نام پر یہ عالم ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد بھی کئی کئی دن ایک دوسرے کے حالات اور معاملات سے نہ واقف رہتے ہیں ہر فرد پہلے سے زیادہ مصروف ہیں اس کے پاس دوسروں کے لیے وقت نہیں حتی کہ خاتون خانہ بھی وقت کی کمی کا شکار نظر اتی ہیں۔ کہیں اولاد ماں باپ کی طرف سے ادم تو یہی کا شکار ہے تو کہیں ماں باپ اولاد سے وقت نہ دینے کا شکوہ کرتے نظر اتے ہیں ، اس نفس نفسی کی وجہ سے دلوں میں دوریاں ہو رہی ہیں صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ کچھ تو وقت کی درست تقسیم کا نہ ہونا ہے اور کچھ ہم نے خود کو بھیجا مصروفیات میں پھنسا رکھا ہے جدید تیکنیکی مہارتوں کے اس دور میں جہاں بہت سی سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں وہیں بے شمار مسائل کا شکار بھی کر دیا ہے جس کی بنا پر وہ چیزیں پہلے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوا کرتی تھی وہ اب اتنی اہم نہیں رہی ہم ایک دوسرے کو نظر انداز کر رہے ہیں لوگوں اور رشتوں کو وقت کی کمی کا کہہ کر پرے کرنے سے بے چینی نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے یوں ہم نے اپنے جیتے جاگتا احساس اور جذبات کو ایک بے جان مشین بنا دیا ہے جس سے ظاہر ہے ہماری طبیعت اور مزاج میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں

ق ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اہل خانہ کی مرکزیت کو نظر انداز کیے وغیرہ اپنے معاملات زندگی اور مصروفیت پرستر نو نظر ڈالیں اکثر خواتین صبح سویرے بیدار ہو جاتی ہیں بچوں کو وقت پر اسکول بھیجنے کے لیے ان کا جلد اٹھنا ضروری ہوتا ہے بچوں کی تعطیلات کے بعد بھی صبح شوہر کے کام پروانگی کے باعث سویرے ہی اٹھا جاتا ہے یوں ان کے دن کا اغاز ہوتا ہے ان کاموں کو نمٹانے کے بعد دیگر گھریلو ذمہ داری اور مشترکہ خاندان وہ تو سسرال والوں کا خیال رکھنا سب ہی ان کے دماغ میں فہرست کی طرح مرتب ہوتے ہیں ایک کے بعد ایک کام وہ کرتی چلی اتی ہیں اور یوں پورا دن گزر جاتا ہے 

یہی حال مرد حضرات کا ہے فکر معاش اور زندگی کی گہما گہمی دن چڑھتے ہی شروع ہو جاتی ہے اور رات گئے اعصاب شل ہو جاتے ہیں نو دن بھر کی تھکن اور وقت کی کمی کے باعث رفتہ رفتہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے ایک دوسرے کے لیے کچھ اجنبی اجنبی سے ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنی بے پناہ مصروفیت کے اجر کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو ہمیں جلد احساس ہو جائے گا کہ درحقیقت نہ تو ہمارے پاس وقت کمی ہے اور نہ مصروفیات زیادہ بلکہ ہم نے شاید اپنی زندگی کی ترجیحات میں اہم رشتوں کو سب سے اخر میں رکھ دیا ہے دوسری طرف ہمارا طرز زندگی بھی رشتوں کے مابین فاصلے کھینچ رہا ہے مثلا خواب گاہوں میں ٹی وی رکھنے کا رواج عام ہو گیا ہے خواتین کی ایک بڑی تعداد گھریلو ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد ٹی وی پر ڈرامہ دیکھنے کو ترجیح دیتی ہے جبکہ مرد اپنے فراغت کا وقت موبائل فون انٹرنیٹ اور ٹی وی پر خبروں اور حالات حاضرہ پر مذاکرات دیکھنے میں گزار دیتے ہیں یہ ساری چیزیں کیا ان رشتوں سے زیادہ اہم ہیں جو ہماری زندگی کا سرمایہ ہے زندگی کی مصروفیات کبھی ختم ہوگی اور نہ ہی گھریلو ذمہ داریوں کا کوئی اختتام ہے لیکن جذبوں میں سرد مہری اور دلوں میں دوریاں ایک دوسرے کے مسائل میں عدم دلچسپی اخر کار گھر کو مکان بنا دیتی ہے رشتہ خواہ ماں باپ کا ہو اولاد کا ہو یا پھر ایک دوست کا دوسرے سے ہم سب ہی کو ہمہ وقت اپنے جذبات کے اظہار کی ضرورت رہتی ہے مگر بس وقت کی کمی کا رونا رو رو کر ہم کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے رشتوں کی خوبصورتی اسی طرح قائم رہتی ہے جب انہیں وہ توجہ پیار اور وقت دیا جائے جس کے حقدار ہیں اور یہ وقت ملتا نہیں نکالنا پڑتا ہے رات گئے جاگنا اور علی صبح بد حواسی کے عالم میں کاموں کی دوڑ لگا کر خود سے جڑے لوگوں سے بے خبر ہو جانا عقلمندی نہیں یہ خاتون خاندہ کی ذمہ داری ہے وہ اس لیے کوشش کریں کہ گھر کے تمام افراد روزانہ ناشتہ سب ایک ساتھ کریں ایک دوسرےسے اپنے خیالات کا اظہار کریں مختلف امور پر گفتگو سنا تسکین ہوتی ہے جو ہمیں اندرونی طور پر سکون پہنچاتی ہے یہی ایسا معاملہ رات  کے کھانے کے وقت بھی کیا جائے اور دن بھر کے معاملات کے حوالے سے بات چیت کی جائے تو گھر کا ماحول بہت اچھا ہو جاتا ہے ہمارے ہاں اکثر کھانے پینے کے وقت بھی ٹی وی چلتا رہتا ہے اور اہل خانہ کی باہمی بات چیت کا یہ نہایت اہم وقت ضائع ہو جاتا ہے یہ محبتیں ہیں جو روحانیت رکھتی ہیں اور یہ رشتے خدا نے بنائے ہیں ان کا خیال رکھنا ہماری سب سے اہم مصروفیت اور ترجیح ہونی چاہیے وقت کی کمی کے باعث لوگ اپنے پیاروں کو توجہ نہیں دے پاتے ان کے مسائل اور حال دل سے اگاہ نہیں رہ پاتے خدانخواستہ

جب یہ رشتے بچھڑ جاتے ہیں تو وقت بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا سب سے خوبصورت تحفہ اپنی زندگی میں سے اس وقت پر توجہ اپنے پیاروں کو دینا ہے اپنے پیاروں کو اپنے قیمتی وقت کا انمول تحفہ دیجیے اپنے معاملات میں تبدیلی لائی یا غیر ضروری الجھن اور عادت سے چھٹکارا پائیے وقت کو اپنے ہاتھ میں لیجیے اپنے پیاروں کو ساتھ لیتے ہوئے اپنی زندگی کو پریشانیوں کی ڈگر سے ہٹا کر حقیقی خوشیوں کے راستے پر ڈال دیجیے 

شکر الحمداللہ 

༻ فرحیـᷡــꙴــꙴــⷩــᷢــⷽــᷫـــن ریـᷦــⷽــͥــᷢــــاض ༺

 تحریر فرحین ریاض

Post a Comment

Previous Post Next Post