فرحیـᷡــꙴــꙴــⷩــᷢــⷽــᷫـــن ریـᷦــⷽــͥــᷢــــاض
#farheen_riaz
حاصل اور لاحاصل کے دائروں میں گھومتی زندگی
زندگی کے راستے دو قسم کے ہوتے ہیں: حاصل اور لاحاصل۔ ہم سب اپنی زندگی میں ان دو دائروں کے درمیان مسلسل گردش کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی اس کی قدر نہیں کرتے اور لاحاصل چیزوں کی حسرت میں مبتلا رہتے ہیں۔
حاصل کی ناقدری
حاصل کی ناقدری ایک عام انسانی رویہ ہے۔ ہمیں جو کچھ بھی ملتا ہے، اس کی اہمیت اس وقت تک سمجھ نہیں آتی جب تک ہم اسے کھو نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر، صحت ایک ایسی نعمت ہے جو ہمیں حاصل ہوتی ہے، لیکن جب تک ہم بیمار نہیں پڑتے، ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ اسی طرح، ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو ہمیں حاصل ہیں، لیکن ہم ان کی ناقدری کرتے ہیں۔
لاحاصل کی حسرت
انسانی فطرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم ہمیشہ اس چیز کی خواہش رکھتے ہیں جو ہمیں حاصل نہیں ہوتی۔ لاحاصل کی حسرت ہمیں ہمیشہ پریشان رکھتی ہے۔ یہ حسرت ہمیں کبھی سکون نہیں لینے دیتی اور ہم ہمیشہ اس کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ یہ ایک ناتمام سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
حاصل اور لاحاصل کی دوڑ
ہمارے معاشرے میں بھی یہی رویہ دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ مال و دولت، شہرت اور کامیابی کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ جو کچھ انہیں حاصل ہوتا ہے، اس کی قدر نہیں کرتے اور ہمیشہ کچھ نیا حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ یہ دوڑ ہمیں تھکا دیتی ہے اور ہمیں کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتی۔
حاصل کی قدر کیسے کریں؟
حاصل کی قدر کرنے کے لیے ہمیں اپنی زندگی میں شکرگزاری کا رویہ اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر کرنی ہوگی۔ اس کے لیے ہمیں اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہوگا اور ان چیزوں پر غور کرنا ہوگا جو ہمیں حاصل ہیں، بجائے اس کے کہ ہم ان چیزوں کی حسرت کریں جو ہمیں حاصل نہیں ہیں۔
لاحاصل کی حسرت سے نجات کیسے پائیں؟
لاحاصل کی حسرت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی توقعات کو حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی زندگی میں مقاصد کا تعین کرنا ہوگا اور ان پر کام کرنا ہوگا، لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو قبول کرنا ہوگا اور اپنی کامیابیوں پر فخر کرنا ہوگا
حاصل اور لاحاصل کے دائروں میں گھومنے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنی زندگی میں حاصل چیزوں کی قدر کرنی ہوگی اور لاحاصل کی حسرت کو چھوڑنا ہوگا۔ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر ہم اپنی سوچ کو مثبت بنائیں اور شکرگزاری کا رویہ اپنائیں، تو ہم اس چکر سے نکل سکتے ہیں اور ایک خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔

