دکھ کا الیکڑک شاک ۔۔۔۔تحریر فرحین ریاض

 اللہ تعالیٰ جس کو اپنا آپ یاد کرانا چاہتا ہے اُسے دکھ کا الیکڑک شاک دیکر اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے ، دکھ کی بھٹی سے نکل کر انسان دوسروں کے لیے نرم پڑجاتا ہے پھر اُس سے نیک اعمال خود بخود اور بخوشی سر زد ہونےلگتے ہیں دکھ تو روحانیت کی سڑھی ہے اس پر صابر و شاکر ہی چڑھ سکتے ہیں 

بانو قدسیہ کی کتاب دست بستہ سے انتخاب

یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کے سفر میں انسان کو کئی طرح کے مشکلات اور دکھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دکھ اور آزمائشوں کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیا گیا دکھ انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے اور روحانیت کی طرف بڑھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

دکھ کا الیکڑک شاک اور اس کا مقصد

اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو یاد کرانا چاہتا ہے تو اُسے دکھ کا الیکڑک شاک دے کر بیدار کرتا ہے۔ یہ الیکڑک شاک اُس وقت آتا ہے جب انسان دنیاوی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہوجاتا ہے اور اللہ کو بھول جاتا ہے۔ ایسے میں دکھ کا ایک جھٹکا آتا ہے جو انسان کو حقیقت کی طرف واپس لے آتا ہے۔ یہ جھٹکا ایک امتحان ہوتا ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی یاد دہانی کراتا ہے

دکھ کی بھٹی اور روحانیت کی ترقّی

دکھ کی بھٹی سے گزر کر انسان دوسروں کے لیے نرم دل بن جاتا ہے۔ جب انسان خود دکھ کا تجربہ کرتا ہے تو وہ دوسروں کے دکھ کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا دل رحم اور محبت سے بھر جاتا ہے اور وہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ اس طرح کے تجربات انسان کو نیک اعمال کی طرف مائل کرتے ہیں اور وہ خوشی سے ان اعمال کو انجام دینے لگتا ہے۔

 صبر و شکر کی اہمیت

دکھ اور آزمائشوں کے دوران صبر اور شکر کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔ صبر اور شکر انسان کو اللہ کے قریب لے آتے ہیں۔ قرآن پاک میں بھی صبر کرنے والوں کو اللہ کی جانب سے بڑے انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ صبر اور شکر کرنے والا انسان اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے اور اُس کی دی ہوئی ہر نعمت کا شکر ادا کرتا ہے۔

دکھ روحانیت کی سڑھی ہے

دکھ حقیقت میں روحانیت کی سڑھی ہے۔ اس سڑھی پر صرف وہی چڑھ سکتے ہیں جو صابر اور شاکر ہوں۔ جب انسان دکھ اور آزمائشوں کا سامنا کرتا ہے اور صبر و شکر سے کام لیتا ہے تو اس کا روحانی مقام بلند ہوتا جاتا ہے۔ اس کی روحانی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔

دکھ اور نیک اعمال

دکھ کے تجربے کے بعد انسان نیک اعمال کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ وہ دنیا کی فانی حقیقتوں کو سمجھ کر اللہ کی رضا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ نیک اعمال خود بخود اور بخوشی سر زد ہونے لگتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتا ہے، صدقہ و خیرات کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے۔ دکھ کی بھٹی میں پکا ہوا انسان نیکیوں کا پیکر بن جاتا ہے۔

دکھ اور آزمائشیں اللہ کی طرف سے بندے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ یہ دکھ اور آزمائشیں انسان کو روحانیت کی سڑھی پر چڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔ صبر اور شکر کرنے والے انسان دکھ کے اس امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے لیے رحمدل بن جاتے ہیں اور نیک اعمال انجام دینے لگتے ہیں۔ دکھ اور آزمائشیں حقیقت میں انسان کی روحانیت کی ترقی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

༻ فرحیـᷡــꙴــꙴــⷩــᷢــⷽــᷫـــن ریـᷦــⷽــͥــᷢــــاض ༺

Post a Comment

Previous Post Next Post