نئی صدی کی پہلی نسل اور پچھلی صدی کے آخری لوگ تحریر فرحین ریاض

 نئی صدی کی پہلی نسل اور پچھلی صدی کے آخری لوگ

تحریر فرحین ریاض 

"نئی صدی کی پہلی نسل جوان ہو چکی ہے اور پچھلی صدی کے آخری لوگ جانے کی تیاری کر رہے ہیں ... یہ تقریباً اپنی نسل کے یہ آخری لوگ ہیں. ان کی سوچ، ان کے خدشات، ان کا مخصوص لباس جلد ناپید ہو جائے گا. ان سے گزشتہ صدی کے سارے راز جان لو 

خوشیاں کیسے منائی جاتی ہیں، 

غموں میں شریک کیسے ہوا جاتا ہے .

 خبر گیری کیا ہوتی ہے.

 بیمار پرسی کیسے کی جاتی ہے. 

احساس کیا ہے..

 اور محبت خلوص کس چیز کا نام ہے...

 

نئی صدی کی پہلی نسل اور پچھلی صدی کے آخری لوگ

نئی صدی کی پہلی نسل جوان ہو چکی ہے اور پچھلی صدی کے آخری لوگ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ تقریباً اپنی نسل کے یہ آخری لوگ ہیں۔ ان کی سوچ، ان کے خدشات، ان کا مخصوص لباس جلد ناپید ہو جائے گا۔ ان سے گزشتہ صدی کے سارے راز جان لو، کیونکہ ان کے جانے کے بعد ہمیں ان کی حکمتیں اور تجربات دستیاب نہ ہوں گے۔

 پرانی نسل کی حکمتیں

پچھلی صدی کے لوگ ہمیں سکھاتے ہیں کہ خوشیاں کیسے منائی جاتی ہیں۔ ان کے دور میں خوشیوں کا مطلب بڑی تقریبات اور مہنگے تحائف نہیں تھا۔ وہ سادہ خوشیوں میں خوش رہنا جانتے تھے، جیسے کہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، دیسی پکوان کھانا، اور گاؤں کی تہواروں میں شریک ہونا۔

غموں میں شریک ہونا بھی انہوں نے ہمیں سکھایا۔ ان کے دور میں غموں کا سامنا تنہا نہیں کیا جاتا تھا بلکہ پورا خاندان اور برادری مل کر ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ غم میں شریک ہونا ایک دوسرے کے لئے کس قدر اہم ہے۔ 

احساس اور محبت

پچھلی صدی کے لوگ احساس اور محبت کی مثال ہیں۔ ان کے دور میں انسانیت اور محبت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ بیمار پرسی کا طریقہ بھی ان ہی سے سیکھنا چاہئے۔ وہ بیمار کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ 

 خبر گیری

پچھلی نسل نے ہمیں خبر گیری کا مطلب سمجھایا۔ ان کے دور میں لوگ ایک دوسرے کے حالات کی خبر رکھتے تھے، مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے اور خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔ 

 موجودہ نسل کی ذمہ داریاں

نئی صدی کی نسل کو چاہئے کہ وہ پچھلی نسل سے یہ سیکھے کہ خوشیاں کیسے منائی جاتی ہیں، غموں میں شریک کیسے ہوا جاتا ہے، خبر گیری کیا ہوتی ہے، بیمار پرسی کیسے کی جاتی ہے، اور محبت و خلوص کس چیز کا نام ہے۔ ان اقدار کو اپنانا اور آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہماری نسلیں بھی ان حکمتوں سے مستفید ہو سکیں۔

پچھلی صدی کے لوگ ایک خزانہ ہیں جو ہم سے جلد دور ہونے والا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھائیں اور ان کی سکھائی ہوئی باتوں کو اپنے دل و دماغ میں بٹھا لیں۔

 جدید دنیا کے تقاضے

جدید دنیا میں ہم ٹیکنالوجی اور تیز رفتار زندگی کے تقاضوں میں الجھ کر اکثر ان قدروں کو بھول جاتے ہیں جو ہمیں پچھلی نسل سے ملی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ان قدروں کو یاد رکھیں اور اپنی زندگی میں شامل کریں۔ 

نئی نسل کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ پچھلی نسل کے تجربات اور حکمتیں آج کے دور میں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی پہلے تھیں۔ ان سے سیکھ کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

 پچھلی نسل کے احترام کی اہمیت

نئی نسل کو پچھلی نسل کا احترام کرنا چاہئے اور ان کی باتوں کو غور سے سننا چاہئے۔ ان کی حکمت اور تجربات ہمیں ان مسائل کا سامنا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو آج کی تیز رفتار زندگی میں ہمیں درپیش ہیں۔

 محبت اور خلوص کا پیغام

محبت اور خلوص کا پیغام ہمیں پچھلی نسل سے ملا ہے۔ ہمیں اس پیغام کو آگے بڑھانا چاہئے۔ محبت اور خلوص انسانیت کی بنیاد ہیں اور ان کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوگی۔ 

نئی صدی کی پہلی نسل کے جوان ہونے اور پچھلی صدی کے آخری لوگوں کے جانے کا وقت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ان سے سیکھیں، ان کی حکمت اور تجربات کو اپنائیں، اور ان قدروں کو آگے بڑھائیں جو انہوں نے ہمیں دی ہیں۔ 

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے بزرگوں کی عزت کریں، ان کی باتوں کو سنیں، اور ان کی سکھائی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ ان کی حکمت اور تجربات ہمارے لئے ایک قیمتی خزانہ ہیں جو ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی 

#farheen_riazفراہم کر سکتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post