http://www.express.com.pk/epaper/index.aspx?Issue=NP_KHI&Page=Magazine_Page015&Date=20150824&Pageno=15&View=1
تحریر فرحین ریاض
امی کہانی سنائیں نا: بچوں کے کہانی سننے کی روایت کیوں ماند پڑ گئی؟
کہانی سنانا، ہماری ثقافت کا ایک اٹوٹ انگ رہا ہے۔ مائیں رات کو بچوں کو اپنی آغوش میں لے کر کہانیاں سناتی تھیں، جن میں اخلاقی اسباق، بہادری کے قصے، اور محبت بھری نصیحتیں شامل ہوتیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے بچوں کی ذہنی نشوونما ہوتی، ان کے دل میں تخیل کی ایک نئی دنیا بستی، اور وہ اپنی ماؤں کے قریب آتے۔ لیکن آج کا دور کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کا عروج: کہانی کی جگہ اسکرین نے لے لی
ٹیکنالوجی کے اس دور میں، موبائل فون، ٹیبلٹ، اور دیگر ڈیجیٹل آلات بچوں کے لیے دلچسپی کا مرکز بن گئے ہیں۔ والدین بھی بسا اوقات ان آلات کو ایک سہولت کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ بچوں کو مصروف رکھ سکیں۔ اس ڈیجیٹل دور میں کہانی سننے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔ اسکرین پر کارٹون دیکھنا، ویڈیوز کھیلنا یا انٹرنیٹ پر وقت گزارنا، بچوں کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔ یہ صورتحال ان کے تخلیقی سوچ کے فقدان کا باعث بن رہی ہے۔
ماں کی مصروفیت: وقت کی قلت یا ترجیحات کا بدلاؤ؟
آج کی مائیں، چاہے وہ گھریلو ہوں یا ملازمت پیشہ، اکثر مصروف رہتی ہیں۔ گھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال، اور دیگر معاشرتی ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ ماں کے پاس کہانی سنانے کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ ساتھ ہی، جدید والدین کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ وہ بچوں کو وقت دینے کے بجائے، ان کی تعلیم اور دیگر سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، کہانی سنانے کی روایت پیچھے چلی گئی ہے۔
والدین کی جذباتی لاتعلقی: کہانیوں کا فقدان
کہانی سنانے کا عمل صرف کہانی سنانے تک محدود نہیں ہوتا تھا؛ یہ ماں اور بچے کے درمیان ایک خاص تعلق کا ذریعہ بھی تھا۔ آج کے والدین، بسا اوقات، جذباتی طور پر اپنے بچوں سے کٹتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ، والدین کا خود اپنے زندگی کے مسائل میں الجھنا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، ڈیجیٹل دنیا نے والدین کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ وہ خود بھی اسکرین پر وقت گزارنا پسند کرتے ہیں، اور اس طرح بچوں کے ساتھ کہانیوں کا وقت گزارنے کی روایت ختم ہو گئی ہے۔
کہانیوں کے اخلاقی سبق اور معاشرتی رویے کا فقدان
پہلے کی کہانیوں میں بچوں کو نیکی، سچائی، اور انصاف کے بارے میں سبق سکھائے جاتے تھے۔ آج کے دور میں، بچوں کے سامنے جو مواد آتا ہے، اس میں یہ اخلاقی سبق کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں کی کتابیں، کارٹونز، اور ویڈیوز میں اکثراً وہ اخلاقی سبق موجود نہیں ہوتے جو کہانیوں میں ملتے تھے۔ یہ فقدان، بچوں کے رویوں اور ان کی سوچ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
بچوں کی تخیل کی دنیا کا زوال
کہانی سننے کا عمل بچوں کے تخیل کو جلا بخشتا تھا۔ ہر کہانی کے ساتھ بچے ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے تھے، جہاں وہ اپنی مرضی سے کردار بناتے اور اپنی تخیلاتی دنیا میں کھو جاتے تھے۔ آج کے بچوں کے پاس یہ تخیلی دنیا نہیں رہی۔ اسکرین کے سامنے وقت گزارنے سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں کمی آ رہی ہے۔ اس کا اثر ان کے علمی اور جذباتی نشوونما پر بھی پڑ رہا ہے۔
ماں کی کہانی کا جذباتی پہلو: محبت اور حفاظت کی علامت
ماں کی کہانی سنانا، محض ایک کہانی سنانے کا عمل نہیں تھا؛ یہ محبت، حفاظت، اور جذباتی تعلق کا اظہار تھا۔ کہانی سنانے کے دوران بچے ماں کی آغوش میں سمٹ جاتے، جہاں انہیں تحفظ اور محبت کا احساس ہوتا۔ آج، یہ جذباتی پہلو بھی مفقود ہو چکا ہے۔ بچوں کو اس جذباتی تعلق کی کمی محسوس ہوتی ہے، جو ان کی نفسیات پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
روایت کی بحالی: کہانی سنانے کی اہمیت
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کھوئی ہوئی روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ والدین کو اپنی مصروف زندگی سے کچھ وقت نکال کر بچوں کے ساتھ کہانی سنانے کی روایت کو اپنانا چاہیے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بچوں کے تخیل کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے، بلکہ ان کی اخلاقی تعلیم اور جذباتی نشوونما کو بھی بہتر کیا جا سکتا ہے۔
ڈیجیٹل مواد کا مثبت استعمال: کہانی سنانے کے جدید طریقے
جدید دور میں کہانی سنانے کا عمل بھی جدید ہو سکتا ہے۔ والدین ڈیجیٹل مواد کا مثبت استعمال کرتے ہوئے کہانیاں سنا سکتے ہیں۔ آڈیو بکس، ڈیجیٹل کہانیاں، اور انٹرایکٹیو کہانی سنانے والے ایپس کے ذریعے بچوں کو کہانی سنانے کی روایت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ اس سے بچے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھتے ہیں بلکہ کہانی سننے کا مزہ بھی لے سکتے ہیں۔
معاشرتی تبدیلی کی ضرورت: کہانی سنانے کی اہمیت پر شعور
یہ ضروری ہے کہ معاشرتی سطح پر بھی کہانی سنانے کی اہمیت پر شعور پیدا کیا جائے۔ والدین، اساتذہ، اور معاشرتی رہنما اس بات پر زور دیں کہ بچوں کے لیے کہانی سننا کتنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ورکشاپس، سیمینارز، اور مہمات چلائی جا سکتی ہیں، جن کے ذریعے کہانی سنانے کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
ایک کھوئی ہوئی روایت کا احیاء
کہانی سنانا، محض ایک تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ بچوں کی علمی، تخلیقی، اور جذباتی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ماں کی کہانی سنانے کا عمل بچوں کے دل و دماغ پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ ہمیں اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس محبت بھری روایت سے فیض یاب ہو سکیں۔ اس کے لیے والدین کو اپنی مصروف زندگی سے کچھ وقت نکال کر اپنے بچوں کے ساتھ کہانی سنانے کی روایت کو دوبارہ اپنانا ہو گا۔ جدید دور کے چیلنجز کے باوجود، اس روایت کو زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
