مسکراہٹ: ایک چھوٹا عمل، بڑا اثرتحریر فرحین ریاض


مسکراہٹ: ایک چھوٹا عمل، بڑا اثر

ہمارے ہاں عام طور پر مسکرانے سے گریز کیا جاتا ہے ۔ اور اگر مسکرانا پڑ بھی جائے تو ، مسکراہٹ میں ایک ہلکا سا طنز شامل کرلیا جاتا ہے ، تاکہ دوسرا شخص آپ کو ایک غیر سنجیدہ شخصیت نہ سمجھ لے ۔ ۔ ۔
ایک قوم کی حیثیت سے بھی ہم مسکرانے والے لوگوں میں شامل نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ اگر مسکراہٹ کا تعلق خوشی سے ہے تو خوش ہونے کو بھی قدر معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
بلند آواز میں قہقہہ لگانا شرعی طور پر جائز نہیں ۔ ۔ ۔ خواتین کو ہم دوش نہیں دے سکتے ۔ اگر وہ مسکرانے سے اجتناب کرتی ہے ، کہ ان کی ہنسی کو تو پھنسی کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
میری ایک ہنس مکھ لینڈ لیڈی نے کہا ، کہ مسٹر چودھری ! آپ کے دانتوں اتنے خوبصورت ہے کہ نقلی لگتے ہیں ، اور اس کے باوجود تصویر اُتارواتے آپ ان کی نمائش نہیں کرتے ؟؟
میرے دانتوں کو اس بد بخت خاتون کی ایسی نظر لگی کہ ، اب میرے منہ میں شگاف زیادہ ہے اور دانت کم ، اور میں ان دنوں نقلی بتیسی لگوانے کے اخراجات پر غور کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔
مستنصر حسین کے کالم سے اقتباس

زندگی کی راہوں میں ہمیں اکثر ایسے لوگ ملتے ہیں جو دکھ اور اداسی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں مایوسی کی گہرائی، دل میں ناکامی کا احساس، اور چہرے پر غم کی لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے لوگوں سے مسکرا کر ملنا، ان کے دلوں میں امید کی شمع جلانا، اور ان کی مایوس زندگی میں ایک چراغ بن کر جلنا ایک عظیم تر صدقہ 

مسکراہٹ ایک ایسی زبان ہے جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی، اور یہ دلوں تک براہ راست پہنچتی ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل

جو نہ صرف دینے والے کے دل کو سکون دیتا ہے بلکہ لینے والے کے دل میں بھی خوشی اور امید کی شمع روشن کرتا ہے۔ جب آپ کسی اداس شخص سے مسکرا کر ملتے ہیں، تو آپ کی مسکراہٹ اس کے دل کی بند کھڑکیاں کھول دیتی ہے، اور وہ ایک لمحے کے لیے اپنی اداسی کو بھول کر آپ کی مسکراہٹ کا جواب دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب انسان کی روح کو تازگی ملتی ہے اور وہ اپنی مشکلات سے بالاتر ہو کر جینے کی کوشش کرتا ہے۔

مسکراہٹ کا صدقہ دینا ایک عظیم عمل ہے جس کی اہمیت کو اسلامی تعلیمات میں بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "مسکرانا بھی صدقہ ہے۔" یہ حدیث ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ مسکراہٹ نہ صرف ایک سماجی عمل ہے بلکہ ایک روحانی عمل بھی ہے۔ یہ ایک ایسا صدقہ ہے جو نہ تو مال و دولت کی محتاج ہے اور نہ ہی وقت و حالات کی قید میں ہے۔ ہر شخص، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، اپنی مسکراہٹ سے دوسروں کے دلوں میں خوشی بانٹ سکتا ہے۔

زندگی میں ہر انسان کو اداسی اور مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسے جلدی سے عبور کر لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو مایوسی کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتے ہیں، ان کے لیے زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ وہ اپنی خوشیوں سے محروم ہو جاتے ہیں، اور ان کا دل دنیا کی رنگینیوں سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے لوگوں کی جو ان کے دل کی گہرائیوں کو سمجھ سکیں اور ان کی مایوس زندگی میں روشنی کی کرن بن سکیں۔

جب ہم کسی مایوس شخص کی زندگی میں روشنی کا چراغ بن کر جلتے ہیں، تو ہم اس کے دل میں امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے جو نہ صرف اس شخص کی زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ ہماری اپنی زندگی کو بھی بہتر اور بامقصد بناتی ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل، جیسے کہ ایک تسلی بخش بات یا ایک مددگار ہاتھ بڑھانا، کسی کی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔

مایوس لوگوں کو امید دلانا ایک بہت بڑا صدقہ ہے۔ یہ صدقہ دینا ہمیں نہ صرف اللہ کے نزدیک لے جاتا ہے بلکہ ہمارے دل میں بھی سکون اور طمانیت پیدا کرتا ہے۔ ایک مایوس شخص کو امید دلانے کا عمل اسے اپنی زندگی کی مشکلات سے نمٹنے کے قابل بناتا ہے۔ وہ اس بات پر یقین کرنے لگتا ہے کہ وہ بھی ایک بہتر اور خوشحال زندگی گزار سکتا ہے

مسکراہٹ اور محبت کا اثر دلوں پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ جب آپ کسی اداس شخص سے محبت اور احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں، تو وہ آپ کی محبت کو محسوس کرتا ہے۔ یہ محبت اس کے دل میں امید اور خوشی کی کرنیں پیدا کرتی ہے۔ محبت اور مسکراہٹ کے ذریعے آپ کسی بھی شخص کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

محبت ایک ایسی طاقت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے اور انسان کو انسانیت کی بلندیوں پر پہنچاتی ہے۔ جب آپ کسی اداس , مایوس شخص سے محبت کا برتاؤ کرتے ہیں، تو آپ اس کے دل میں ایک نئی زندگی کی امید پیدا کرتے ہیں۔ محبت اور مسکراہٹ کے ذریعے آپ اس کی زندگی کو ایک نئے راستے پر ڈال سکتے ہیں، جہاں وہ اپنی مشکلات سے نجات پا کر خوشیوں کی جانب گامزن ہو سکے۔

یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ مسکراہٹ ایک بہت چھوٹا عمل ہے، لیکن اس کا اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔ یہ دلوں کو خوشی فراہم کرتی ہے، لوگوں کے درمیان محبت بڑھاتی ہے، اور انسانیت کے رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔ مسکراہٹ کے ذریعے آپ کسی بھی شخص کو اپنی محبت کا یقین دلا سکتے ہیں، اور اس کے دل میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔

آخرکار، زندگی میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو دوسروں کے دلوں میں خوشی اور امید کی شمع جلاتے ہیں۔ مسکراہٹ کا صدقہ دینا اور مایوس زندگی میں امید کا چراغ بننا وہ عمل ہیں جو ہمیں انسانیت کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں ان چھوٹے چھوٹے اعمال کو اپنا لیں، تاکہ ہم دوسروں کے لیے بھی خوشی اور سکون کا باعث بن سکیں، اور اپنی آخرت کے لیے بھی اجر کا ذخیرہ بنا سکیں۔

زندگی کی اس مختصر مسافت میں، اگر ہم اپنی مسکراہٹوں کے ذریعے دوسروں کی مایوسیوں کو کم کر سکیں، تو یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔ اداس لوگوں سے مسکرا کر ملنا، ان کی مشکلات کو سمجھنا، اور ان کی زندگی میں روشنی کی کرن بننا نہ صرف ہمارے لیے باعثِ سکون ہے بلکہ ہمارے ایمان اور روحانیت کے بھی اعلیٰ معیار کی نشانی ہے۔ یہی عمل ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب اور خوشحال بناتا ہے۔

تحریر فرحین ریاض

Post a Comment

Previous Post Next Post