حقیقی شخصیت کی تعمیر کیسے ہوتی ہے؟ farheen riaz

 تحریر فرحین ریاض 

حقیقی شخصیت کی تعمیر کیسے ہوتی ہے؟

یقیناً کچھ شخصیات —

 مردوں اور خواتین کی — غیر معمولی طور پر متاثر کن اور دلکش ہوتی ہیں۔ وہ صرف ظاہری وجاہت یا حسن کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی شخصیت میں چھپی گہرائی، اعتماد، اور وژن انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

بطور مرد، ہمیں کبھی کبھار ایسی خواتین سے واسطہ پڑتا ہے جن کی شخصیت کسی جادو کی طرح ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان خواتین کی کشش صرف ان کی بات چیت، ظاہری اعتماد یا قیادت کے انداز میں نہیں، بلکہ ان کی کہانی میں چھپے درد، قربانی اور جدوجہد کی جھلک بھی اس کشش کا بڑا سبب ہوتی ہے۔

حقیقی شخصیت کی تعمیر کیسے ہوتی ہے؟

عورت کا ظاہری حسن اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن جو پہلو اس کی شخصیت کو حقیقی معنوں میں "اٹریکٹو" بناتا ہے، وہ اس کا خود پر یقین، فیصلہ سازی کی طاقت، وژن اور مضبوطی ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو وقتی طور پر تو بہت دلکش محسوس ہوتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے اکثر ایک طویل اور تکلیف دہ سفر چھپا ہوتا ہے۔

اگر کسی خاتون کو محبت کرنے والے والدین، پرامن ماحول اور تحفظ دینے والا خاندان ملا ہو تو اس کی شخصیت عمومی طور پر ایک متوازن اور نرم مزاج انسان کی ہوتی ہے۔ وہ اپنے فیصلے مرد حضرات (والد، بھائی، شوہر) کے ساتھ مشورے سے کرتی ہے اور اپنی فطری نسوانیت کو مکمل طور پر قبول کرتی ہے۔

اس کے برعکس، اگر ایک لڑکی کو بچپن میں ٹراما، جذباتی زخم، نظرانداز کیے جانے کا تجربہ، یا ذمہ داریوں کا بوجھ سہنا پڑے — تو وہ لاشعوری طور پر ایک قائدانہ اور مدافع کردار اختیار کر لیتی ہے۔ وہ زندگی سے سیکھتی ہے کہ اگر وہ خود اپنے لیے کھڑی نہ ہوئی، تو کوئی اور نہیں ہوگا۔ یہی تجربات اسے فیصلہ ساز، مضبوط، خود پر بھروسہ کرنے والی اور وژنری خاتون بناتے ہیں۔

زخموں سے پیدا ہونے والی خوبیاں

ایسی خواتین بظاہر مضبوط اور کامیاب نظر آتی ہیں، مگر اکثر ان کی مضبوطی زخموں کی پیداوار ہوتی ہے۔ وہ اپنے درد سے بھاگنے کے لیے بڑے منصوبوں میں مشغول ہو جاتی ہیں — معاشرے کی اصلاح، امت کی خدمت، یا فلاحی سرگرمیوں میں مگن رہتی ہیں۔ یہ سب کام یقیناً عظیم ہوتے ہیں، مگر بعض اوقات یہ اندرونی خلا کو بھرنے کی ایک لاشعوری کوشش بھی ہوتے ہیں۔

مرد ان خواتین کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں؟

اکثر ایسے مرد، جو خود بھی ٹراما، محرومی یا خاندانی کمی کا شکار ہوں، ان خواتین میں ایک خاص کشش محسوس کرتے ہیں۔ یہ کشش بعض اوقات محبت یا روحانی مطابقت کی نہیں بلکہ سہارا، رہنمائی، یا جذباتی بھروسے کی تلاش ہوتی ہے۔ ایسی خواتین میں انہیں وہ مرشد، وہ ماں جیسا پیار، یا وہ ذہنی تحفظ دکھائی دیتا ہے جس کی انہیں کمی رہی ہوتی ہے۔

یہ کشش اگرچہ فطری لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ دونوں اطراف کے اندرونی زخموں کی پہچان اور مطابقت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسے مرد اور عورت جب ساتھ آتے ہیں، تو کبھی زبردست ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، اور کبھی ماضی کے زخموں سے نبردآزما دو لوگ مزید الجھاؤ اور پیچیدگیوں میں گھر جاتے ہیں۔

خود احتسابی ضروری ہے

جب بھی کسی شخصیت کی طرف شدید کشش محسوس ہو، تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے اندر جھانکا جائے۔ کیا یہ کشش واقعی شخصیت کی بنیاد پر ہے؟ یا یہ میرے اندر کے کسی زخم، محرومی یا کمی کا نتیجہ ہے؟ اپنے جذبات کو پہچاننا، ان کا تجزیہ کرنا، اور ان پر کام کرنا — یہ سب تعلقات کو متوازن رکھنے کے لیے لازم ہے۔

اسلام پسند نوجوانوں کے لیے خاص تنبیہ

آج کے دور میں جہاں اسلامی تحریکات سے وابستہ نوجوان مرد و خواتین ایک دوسرے کے ساتھ مختلف مواقع پر بات چیت کرتے ہیں، آئیڈیاز شیئر کرتے ہیں، وہاں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے وژن، بات چیت، علم اور شعور سے شدید متاثر ہو جائیں۔ ایسے میں کسی بھی رشتے کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے عقل، دین اور شعوری بصیرت سے کام لینا انتہائی ضروری ہے۔

قابلِ احترام، وژن رکھنے والی، خودمختار خواتین اور ان سے متاثر ہونے والے مرد دونوں ایک عظیم شعور اور گہری حساسیت کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن تعلقات کی بنیاد اگر صرف انفرادیت، ذہانت یا جاذبیت پر ہو، اور اس کے پیچھے زخموں کا تسلسل ہو — تو تعلق غیر متوازن ہو سکتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے رشتے عطا کرے جو نہ صرف ظاہری طور پر خوبصورت ہوں بلکہ باطن میں بھی پرسکون، 

متوازن اور پاکیزہ ہوں — آمین یا رب العالمین۔

farheen riaz

Post a Comment

Previous Post Next Post