نیکی کا پھل تحریر فرحین ریاض


اس تصویر میں ایک خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا اقتباس موجود ہے
گر تم سے کوئی کہے، انسان کی کی گئی نیکی گھوم پھر کر ایک دن اس کے پاس ضرور لوٹتی ہے، تو یقین کر لینا کیونکہ ایسا ضرور ہوتا ہے۔"

نیکی کا سفر: انسانیت، نیت اور واپسی کی تاثیر

انسان کے اعمال اُس کی پہچان ہوتے ہیں۔ یہ دنیا ایک عظیم عمل کا میدان ہے، جہاں ہر انسان نیکی یا بدی کا بیج بوتا ہے اور وقت کے ساتھ وہ بیج ایک درخت کی شکل اختیار کرتا ہے، جو یا تو سایہ دار ہوتا ہے یا کانٹوں سے بھرا ہوا۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو نیکی ہم دوسروں کے لیے کرتے ہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ہمارے پاس واپس ضرور آتی ہے۔ یہی قانون فطرت ہے، اور یہی ربِ کریم کا نظام عدل ہے۔

نیکی کی تعریف اور دائرہ کار

نیکی صرف مالی مدد یا صدقہ دینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ کسی کو مسکرا کر دیکھنا، کسی کی دلجوئی کرنا، کسی کو راستہ دینا، علم بانٹنا، کسی کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا، یا حتیٰ کہ کسی کی برائی سے گریز کرنا بھی نیکی میں شامل ہے۔ نیکی ایک خاموش خدمت ہے، جو دنیا کے شور شرابے سے ماورا، دل سے نکلتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہے۔

نیکی اور نیت کا تعلق

نیکی کی اصل روح نیت میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر نیکی دکھاوے یا ذاتی مفاد کے لیے کی جائے تو وہ فقط عمل رہ جاتی ہے، نیکی نہیں۔ ایک خالص نیت کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا عمل، ایک پہاڑ کی مانند وزن رکھتا ہے۔ قرآنِ پاک اور احادیث مبارکہ میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل کو اُس کی نیت کے مطابق پرکھتا ہے۔

نیکی کا لوٹ کر آنا: ایک روحانی حقیقت

زندگی میں ہم اکثر ایسے لمحات دیکھتے ہیں جب مایوسی، پریشانی یا بےبسی ہمیں گھیر لیتی ہے، اور عین اسی لمحے کوئی انجان شخص ہماری مدد کو آ جاتا ہے۔ وہ مدد، وہ سہارا، دراصل وہی نیکی ہوتی ہے جو کبھی ہم نے کسی کے لیے کی تھی، اور اب وہ گھوم کر ہمارے پاس لوٹی ہے۔

یہ عمل ایسے ہی ہے جیسے ہم پانی میں کنکری پھینکتے ہیں، وہ لہریں بنا کر دور تک جاتی ہے اور پھر واپس آتی ہیں۔ نیکی بھی ویسی ہی لہریں ہیں، جو کائنات کے پردے میں محفوظ رہتی ہیں اور وقت آنے پر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔

سائنس اور نفسیات کی روشنی میں

اگرچہ نیکی اور اس کا لوٹنا ایک روحانی تصور ہے، مگر جدید سائنس اور نفسیات نے بھی اس پر تحقیقات کی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں یا کوئی نیکی کرتے ہیں، تو ہمارے دماغ میں خوشی کے ہارمونز (dopamine, serotonin) خارج ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف ہمارا موڈ بہتر ہوتا ہے بلکہ ہماری صحت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔

اسی طرح سوشیالوجی میں "karma"  کا تصور موجود ہے، جو اسی بات پر زور دیتا ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی کی طرف لوٹتا ہے

نیکی اور آزمائش

کبھی کبھار ہم نیکی کرتے ہیں اور بدلے میں تکلیف یا بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔ اس موقع پر اکثر لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور نیکی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ فوراً نہیں ملتا۔ بعض اوقات یہ بدلہ کئی سال بعد، کئی گنا بڑھ کر، یا کسی اور صورت میں ملتا ہے۔ اس لیے نیکی کے بعد بدلہ یا شکر کی توقع کرنا، نیکی کی روح کے خلاف ہے۔

نیکی کے لوٹنے کی عملی مثالیں

 مزدور اور دروازہ کھولنے والا: ایک معروف قصہ ہے کہ ایک غریب شخص نے بارش میں ایک بزرگ عورت کی مدد کی۔ برسوں بعد وہی عورت اس شخص کی فیس ادا کرتی ہے جب وہ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے، یہ جانے بغیر کہ وہی بچانے والا تھا۔

 استاد اور شاگرد

 ایک استاد جو اپنے شاگرد کو بغیر کسی فیس کے پڑھاتا ہے، سالوں بعد جب وہ شاگرد ایک کامیاب انسان بنتا ہے تو اپنے استاد کی پوری زندگی کا سہارا بن جاتا ہے۔

 سوشل میڈیا کی دنیا

: آج کل ہزاروں مثالیں موجود ہیں جب کسی کی چھوٹی سی مدد وائرل ہوتی ہے اور دنیا بھر سے لوگ مدد کو پہنچتے ہیں۔ ایک ہاتھ سے دی جانے والی نیکی، لاکھوں ہاتھوں سے واپس لوٹتی ہے۔

نیکی کی راہ میں حوصلہ افزائی

یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نیکی کو عام کریں۔ بچوں کی تربیت میں نیکی کی اہمیت شامل کریں، معاشرتی سطح پر نیکی کے کاموں کو فروغ دیں، اور اپنی گفتگو، رویے اور سوچ میں نرمی اور خیر خواہی پیدا کریں۔ نیکی کو نعرہ نہیں، طرزِ زندگی بنائیں۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

"تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔" (الحدیث)

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھو، چاہے وہ کسی کو پانی پلانا ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں"نیکی کرو، چاہے وہ کسی ناقدری کے قابل لگے، کیونکہ ایک دن تمہیں اس کا اجر ضرور ملے گا۔"

یہ دنیا اعمال کا بازار ہے۔ جو ہم دیتے ہیں، وہی ہمیں واپس ملتا ہے۔ نیکی ایک بیج ہے، جو کبھی وقت پر، کبھی دیر سے، مگر پھل ضرور دیتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی کہے کہ نیکی گھوم کر واپس آتی ہے، تو یقین کر لینا۔ کیونکہ یہ نہ صرف انسانوں کا تجربہ ہے بلکہ خالقِ کائنات کا وعدہ بھی۔ 

farheen riaz

https://farheenriazwriter.blogspot.com/p/25_8.html 

Post a Comment

Previous Post Next Post