عورت کی عظمت اور بانو قدسیہ کی بصیرت

 


عورت کی عظمت اور بانو قدسیہ کی بصیرت

بانو قدسیہ پاکستان کی اردو ادب کی نمایاں ترین ادیبہ ہیں، جنہوں نے انسانی رشتوں، جذبات اور معاشرتی رویوں کو اپنی تحریروں میں نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ ان کے الفاظ دل کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں کیونکہ وہ محض کہانیاں نہیں سناتیں بلکہ زندگی کی سچائیوں کو قاری کے سامنے کھول کر رکھ دیتی ہیں۔

ان کی ایک مشہور بات ہے

"اگر کوئی عورت خود تمہاری طرف رجوع کرتی ہے تو پھر تم پر فرض ہے کہ اس کی خاطر سر جھکا دو، کیونکہ کوئی عورت تب تک کسی رد میں دلچسپی نہیں لیتی جب تک وہ مرد اس کی نظروں میں دنیا کے تمام مردوں سے عظیم نہ ہو۔

یہ الفاظ عورت کے احساسات، قربانی اور عزت نفس کی عظیم حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس اقتباس کو بنیاد بنا کر ہم عورت کے مقام، اس کی قربانیوں اور مرد کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈال سکتے ہیں۔

عورت کی فطرت میں حیا، شرم اور وقار رکھا گیا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں لاتعداد رشتوں کو نبھاتی ہے لیکن اپنی ذات کو کسی کے سامنے کھولنا اس کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت خود اپنی مرضی اور خواہش سے کسی مرد کی طرف رجوع کرے تو یہ معمولی بات نہیں۔ یہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے کیونکہ عورت اپنی عزت، اپنی انفرادیت اور اپنی خودی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔

جب عورت کسی مرد کو اپنا دل سونپتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے اسے دنیا کے تمام مردوں سے زیادہ معتبر، زیادہ مضبوط اور زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بانو قدسیہ اس لمحے کو عورت کی عظمت کا اعلان قرار دیتی ہیں

اگر عورت اپنی حیا کی دیوار توڑ کر مرد کی طرف رجوع کرے تو مرد پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔ یہ ذمہ داری صرف محبت کا جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ اس میں عزت دینا، اعتماد قائم رکھنا اور عورت کی خودداری کی حفاظت کرنا بھی شامل ہے۔

مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس رجوع کو کبھی کمزوری نہ سمجھے بلکہ اسے عورت کی عظمت اور اعتماد کا ثبوت جانے۔ کیونکہ عورت کسی بھی مرد کی طرف جھکنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہے، اور جب وہ یہ فیصلہ کر لیتی ہے تو پھر اپنی پوری ہستی اس پر نچھاور کر دیتی ہے۔

بانو قدسیہ کے نزدیک عورت کا مقام محض ماں یا بیوی کی حیثیت سے محدود نہیں بلکہ وہ ایک مکمل کائنات ہے۔ عورت محبت کا سرچشمہ بھی ہے اور قربانی کا استعارہ بھی۔ وہ گھر کی بنیاد ہے، اولاد کی تربیت کرنے والی ہے اور معاشرے کے ہر پہلو کو سنوارنے والی ہے۔

عورت کا رجوع دراصل اس کے اندرونی اعتماد اور پاکیزگی کی دلیل ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب عورت اپنے دل کے دروازے پر سے پردہ ہٹاتی ہے اور اپنی حقیقت کسی اور کے حوالے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رجوع کو کبھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کے جذبات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عورت اگر کسی مرد کی طرف اپنی خواہش یا محبت کا اظہار کرے تو اسے برا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ بانو قدسیہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عورت جب یہ قدم اٹھاتی ہے تو وہ دراصل اپنے اندرونی وقار اور گہرے اعتماد کے ساتھ یہ فیصلہ کرتی ہے۔

یہاں معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کا رجوع کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک عظیم قربانی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اس نے اپنی عزت اور محبت کسی ایک شخص کے سپرد کر دی ہے

محبت اور رشتوں کی اصل بنیاد اعتماد اور عزت ہے۔ اگر عورت اپنی محبت کا اظہار کرے اور مرد اس کو سنبھالنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو وہ رشتہ کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ مرد کو چاہیے کہ وہ عورت کی عظمت کو سمجھے اور اس اعتماد کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری مانے۔

بانو قدسیہ یہی پیغام دیتی ہیں کہ عورت کا رجوع کسی عام بات کا نام نہیں بلکہ یہ مرد کے لیے ایک اعزاز ہے۔ اس لمحے کو مرد کو اپنی کامیابی سمجھنا چاہیے اور عورت کے اعتماد کو کبھی ٹوٹنے نہیں دینا چاہیے۔

عورت کا دل محبت کا ایک وسیع سمندر ہے۔ وہ کسی کو اپنا بنانے کے بعد اس پر بے پناہ محبت نچھاور کرتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ عورت کبھی کسی غیر معتبر یا کمزور شخص کی طرف نہیں جھکتی۔ وہ تبھی رجوع کرتی ہے جب اسے یہ یقین ہو جائے کہ اس کے سامنے کھڑا شخص دنیا کے تمام مردوں سے زیادہ عظیم ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جسے بانو قدسیہ نے اپنے الفاظ میں امر کر دیا ہے۔

بانو قدسیہ کے الفاظ عورت کے وقار اور عظمت کی وہ تشریح ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عورت کا رجوع دراصل اس کا سب سے بڑا تحفہ ہے، جو وہ کسی مرد کو دیتی ہے۔ یہ تحفہ صرف محبت نہیں بلکہ اعتماد، عزت اور زندگی کا مکمل ساتھ ہے۔

مرد کے لیے لازم ہے کہ وہ اس تحفے کی قدر کرے، عورت کے اعتماد کو کبھی ٹوٹنے نہ دے اور اسے وہ مقام دے جو وہ اس کی نظروں میں رکھتی ہے۔ یہی عورت کی عظمت ہے، یہی رشتوں کی بنیاد ہے اور یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے


Post a Comment

Previous Post Next Post