جہالت کے اندھیرے اور علم کی روشنی تحریر فرحین ریاض

جہالت کے اندھیرے اور علم کی روشنی

علم انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ روشنی صرف آنکھوں کی نہیں بلکہ فکر، شعور اور بصیرت کی ہوتی ہے۔ جب انسان علم حاصل کرتا ہے تو اس کے ذہن کے بند دروازے کھلنے لگتے ہیں، سوچ کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں اور زندگی کو سمجھنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔ علم دراصل وہ طاقت ہے جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے اور اسے ترقی، فہم اور حکمت کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔

انسان اور علم کا تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان۔ جب انسان نے ہوش سنبھالا تو سب سے پہلے اس نے سوال کیا، اور یہی سوال علم کی بنیاد بنا۔ “یہ کیا ہے؟”، “کیوں ہے؟” اور “کیسے ہے؟” جیسے سوالات نے انسان کو سوچنے پر مجبور کیا، اور یہی سوچ علم میں تبدیل ہوتی گئی۔ علم کے ذریعے انسان نے قدرت کے راز سمجھے، زمین و آسمان کی وسعتوں کو جانا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے طریقے ایجاد کیے۔

جہالت اندھیروں کی مانند ہے جو انسان کو راستہ بھلا دیتی ہے، جبکہ علم روشنی کی مانند ہے جو صحیح سمت دکھاتا ہے۔ ایک جاہل انسان اکثر توہمات، غلط فہمیوں اور تعصبات کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ علم یافتہ انسان دلیل، تحقیق اور شعور کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو اپنایا وہ ترقی کی منازل طے کرتی گئیں، اور جنہوں نے علم سے منہ موڑا وہ پسماندگی اور زوال کا شکار ہو گئیں۔

ہر نیا علم انسان کے ذہن کو مزید مضبوط اور فعال بناتا ہے۔ علم سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ جب انسان مختلف علوم کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی یادداشت بہتر ہوتی ہے، اس کی گفتگو میں وزن آتا ہے اور اس کے فیصلے پختہ ہوتے ہیں۔ علم انسان کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ اسے سوچنے کا ہنر سکھاتا ہے، جو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

علم کا اصل مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی ہے۔ سچا علم انسان میں عاجزی، برداشت، رواداری اور انصاف کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ایک علم یافتہ انسان جانتا ہے کہ اختلاف رائے کو کیسے برداشت کرنا ہے اور دوسروں کے خیالات کا احترام کیسے کرنا ہے۔ علم انسان کو خود غرضی سے نکال کر اجتماعی فلاح کی طرف لے جاتا ہے، جہاں وہ صرف اپنے فائدے کے بجائے معاشرے کی بہتری کے بارے میں سوچتا ہے۔

علم کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں۔ جتنا زیادہ انسان سیکھتا ہے، اتنا ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ابھی بہت کچھ نہیں جانتا۔ یہی احساس انسان کو مزید سیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ سمندر کی طرح علم بھی بے کنار ہے؛ ایک قطرہ حاصل کرنے کے بعد انسان کو اس کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہنا چاہیے۔

علم خود بخود حاصل نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے لیے طلب، محنت اور لگن ضروری ہوتی ہے۔ طلبِ علم وہ چنگاری ہے جو انسان کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر علم کی طلب ختم ہو جائے تو انسان جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو عمر، حالات اور مصروفیات کے باوجود سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیکھنا کوئی مرحلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہوتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کے افراد کے علم پر ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ بہتر فیصلے کرتا ہے، مضبوط معیشت قائم کرتا ہے اور انصاف پر مبنی نظام تشکیل دیتا ہے۔ علم صحت، معیشت، ٹیکنالوجی اور سیاست ہر شعبے میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا دراصل علم پر کی گئی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔

آج کا دور علم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو علم کو اپنی ترجیح بناتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی نے علم کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ نئی مہارتیں سیکھنا، خود کو اپ ڈیٹ رکھنا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق علم حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

علم انسان کو خود اعتمادی عطا کرتا ہے۔ جب انسان کو علم ہوتا ہے تو وہ کسی کے سامنے جھجھک محسوس نہیں کرتا، اپنے موقف کا دفاع دلیل سے کرتا ہے اور حالات کا سامنا اعتماد کے ساتھ کرتا ہے۔ علم کے بغیر انسان اکثر دوسروں پر انحصار کرتا ہے، جبکہ علم اسے خود مختار اور بااعتماد بناتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ علم انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے، ذہن کو مضبوط کرتا ہے اور دنیا کی سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے۔ علم کی کوئی حد نہیں، بس اس کی طلب کبھی ختم نہ ہو۔ اگر ہم علم کو اپنا رہنما بنا لیں تو نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی روشن بنا سکتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post