اصل خوبصورتی توازن میں ہے تحریر فرحین ریاض

اولاد — فخر یا ملامت نہیں، قدرت کی عطا ہے

(ایک فکری، سماجی اور جذباتی مضمون — )

ہمارے معاشرے میں اولاد کی پیدائش کو صرف ایک خوشی کا موقع نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے ساتھ کئی غیر ضروری توقعات، دباؤ اور روایتی سوچیں بھی جڑی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر جب بات بیٹی یا بیٹے کی پیدائش کی ہو تو رویے یکسر بدل جاتے ہیں۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوں تو اسے سسرال یا معاشرے کی طرف سے طنز، ملامت یا ہمدردی کے پردے میں چھپی ہوئی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو جائے تو وہی معاشرہ اسے مبارک بادوں اور فخر کے القابات سے نوازنے لگتا ہے۔

یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ انسانی سوچ کی ایک کمزوری کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اولاد کی جنس کا فیصلہ نہ عورت کے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ مرد کے۔ یہ مکمل طور پر قدرت کا نظام ہے۔

بیٹی کی پیدائش — خوشی یا آزمائش؟

ہمارے ہاں بیٹی کی پیدائش کو اکثر ایک آزمائش یا بوجھ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ سوچ سراسر غلط اور فرسودہ ہے۔
بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، گھر کی رونق ہوتی ہیں اور رشتوں میں محبت اور نرمی پیدا کرتی ہیں۔

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سی خواتین کو صرف اس وجہ سے کم تر سمجھا جاتا ہے کہ ان کے ہاں بیٹا پیدا نہیں ہوا۔
انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے جیسے وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہوں۔

یہ سوچ نہ صرف عورت کی عزتِ نفس کو مجروح کرتی ہے بلکہ اس کے ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتی ہے۔

بیٹے کی پیدائش — فخر یا غرور؟

دوسری طرف جب کسی عورت کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اسے ایک خاص مقام دے دیا جاتا ہے۔
وہ خود بھی بعض اوقات اس بات پر فخر محسوس کرنے لگتی ہے کہ اس کی کوکھ سے "وارث" پیدا ہوا ہے۔

یہ احساس اگر شکرگزاری تک محدود رہے تو خوبصورت ہے، مگر جب یہ غرور یا دوسروں کو کمتر سمجھنے کا سبب بن جائے تو یہ ایک منفی رویہ بن جاتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جس چیز پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، اس پر فخر کرنا یا کسی کو ملامت کرنا دونوں ہی غیر مناسب ہیں۔

قدرت کا نظام — انسان کی سمجھ سے بالاتر

اولاد کی جنس کا فیصلہ ایک ایسا عمل ہے جو مکمل طور پر قدرت کے ہاتھ میں ہے۔
سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس معاملے میں عورت کو موردِ الزام ٹھہرانا سراسر غلط ہے۔

مگر ہمارے معاشرے میں علم اور آگہی کی کمی کی وجہ سے اب بھی پرانی روایات کو حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔
نتیجتاً عورتیں ایک ایسے بوجھ کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں جو دراصل ان کا مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔

ملامت — ایک سماجی بیماری

کسی عورت کو بیٹیاں پیدا ہونے پر ملامت کرنا دراصل ایک سماجی بیماری کی علامت ہے۔
یہ رویہ نہ صرف اس عورت کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے بلکہ اس کے بچوں کی شخصیت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔

بیٹیاں جب اپنے بارے میں ایسی باتیں سنتی ہیں تو ان کے اندر احساسِ کمتری پیدا ہو سکتا ہے۔
وہ خود کو غیر اہم سمجھنے لگتی ہیں، جو ان کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔

فخر — ایک اور انتہا

اسی طرح بیٹے کی پیدائش پر حد سے زیادہ فخر کرنا بھی ایک انتہا ہے۔
یہ رویہ معاشرے میں تفریق کو بڑھاتا ہے اور بیٹیوں کی اہمیت کو کم کر دیتا ہے۔

اگر ہم واقعی ایک متوازن اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں دونوں انتہاؤں سے بچنا ہوگا —
نہ بیٹی کی پیدائش پر ملامت اور نہ بیٹے کی پیدائش پر غرور۔

والدین کی اصل ذمہ داری

اولاد چاہے بیٹی ہو یا بیٹا، والدین کی اصل ذمہ داری اس کی اچھی تربیت کرنا ہے۔
ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور بااخلاق انسان بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بیٹیوں نے بھی معاشرے میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں اور بیٹوں نے بھی۔
فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ انہیں کیسی تربیت اور مواقع فراہم کیے گئے۔

بدلتی ہوئی سوچ — ایک روشن امید

آج کے دور میں تعلیم اور آگہی کے ساتھ معاشرتی سوچ میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔
بہت سے خاندان اب بیٹیوں کو برابر کے مواقع دے رہے ہیں اور ان کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

یہ ایک مثبت قدم ہے جو ہمیں ایک بہتر معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

عورت کا اپنا رویہ بھی اہم

صرف معاشرے کو بدلنے کی ضرورت نہیں بلکہ عورت کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔
اگر وہ بیٹیاں پیدا ہونے پر ملامت نہیں چاہتی تو اسے بیٹا پیدا ہونے پر دوسروں کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسے چاہیے کہ وہ ہر نعمت پر شکر ادا کرے اور اپنی اولاد کی جنس کے بجائے اس کی شخصیت اور کردار پر توجہ دے۔

انسانیت کا اصل معیار

انسان کی قدر اس کی سوچ، کردار اور عمل سے ہوتی ہے، نہ کہ اس بات سے کہ اس کے ہاں بیٹے ہیں یا بیٹیاں۔
جو لوگ اس فرق کو بنیاد بنا کر دوسروں کو پرکھتے ہیں، وہ دراصل اپنی سوچ کی محدودیت کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہاں ہر فرد کو برابری اور عزت دی جائے۔

اولاد قدرت کی ایک خوبصورت نعمت ہے۔
یہ نعمت چاہے بیٹی کی صورت میں ہو یا بیٹے کی صورت میں، دونوں برابر اہم اور قابلِ محبت ہیں۔

اگر ہم اس حقیقت کو دل سے قبول کر لیں تو نہ کسی عورت کو ملامت کا سامنا کرنا پڑے گا اور نہ کسی کو غرور کرنے کا موقع ملے گا۔

ہمیں اپنی سوچ کو وسیع کرنا ہوگا، اپنی زبان کو نرم بنانا ہوگا اور اپنے رویوں کو انسانیت کے قریب لانا ہوگا۔

یاد رکھیں —
فخر اور ملامت دونوں ہی انتہائیں ہیں۔
اصل خوبصورتی توازن میں ہے، شکرگزاری میں ہے اور اس یقین میں ہے کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ قدرت کی بہترین عطا ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ دیں گے جہاں بیٹی یا بیٹے کی بنیاد پر کسی کی قدر کم یا زیادہ نہ کی جائے، بلکہ ہر بچے کو اس کی صلاحیتوں اور کردار کی بنیاد پر پہچانا جائے۔

کیونکہ ایک روشن مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی پرانی غلط سوچوں کو بدلنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
سلامت رہیں، خوش رہیں اور محبت اور انصاف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ 🌸

Post a Comment

Previous Post Next Post