"برے وقت میں جو تم سے جدا نہ
دھیان رکھنا کہیں وہ خدا نہ ہو"
زندگی خوشی اور غم کا امتزاج ہے۔ کچھ لمحات مسکراہٹیں دیتے ہیں تو کچھ آنکھوں کو نم کر جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال جو اکثر دل میں ابھرتا ہے:"جب سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، تب بھی کوئی ایک ہستی باقی کیوں رہتی ہے؟"
یہ شعر نہ صرف ایک گہری سوچ پیدا کرتا ہے بلکہ رب کی بے مثال محبت اور قربت کا اشارہ بھی دیتا ہے۔ اللہ کی موجودگی: ہر حال میں ہمارے ساتھ بے شک انسان کمزور ہے، اور مشکل وقت میں وہ اپنی بے بسی کا کھلے عام اظہار کرتا ہے۔ لیکن یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک غیر مرئی قوت، ایک پرامن سکوت، دل میں جگہ بنانے لگتا ہے — اور وہ صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ "اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔"(حدیث مفہوم)
جب ماں بھی اولاد کو بے بسی میں صرف دیکھ سکتی ہے، تب اللہ وہ سہارا دیتا ہے جو کسی اور کے بس کی بات نہ برے وقت میں کون باقی رہتا ہے؟جب دوست صرف مصروف ہو جاتے ہیں...رشتہ دار خاموشی اختیار کر لیتے ہیں..زندگی سے خوشیاں روٹھ جاتی ہیں... تب ایک ہستی ہے جو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی — وہ رب ہے۔ "اللہ مومن کے دل میں اس وقت سب سے قریب ہوتا ہے جب وہ غمگین ہوتا ہے۔"
یہی وہ موقع ہوتا ہے جب انسان کو شعور آتا ہے کہ جو کبھی جدا نہیں ہوا، وہی اصل میں میرا اپنا تھا۔ جو آنسوؤں میں بھی میرے دل کی دھڑکن سن رہا تھا، وہی "وہ"
برے وقت میں اللہ کی قربت کو کیسے محسوس کریں؟
1. دعا میں آنکھوں کا بھیگنا جب دل مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہو اور الفاظ نہ ملیں، تب صرف آنکھوں کا بہتا پانی بھی رب سے رابطے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
2. خاموشی میں تسلی کبھی آپ کو لگا ہو کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی دل کے اندر ایک سکون سا ہوتا ہے؟
وہ (روحانی اطمینان) ہوتا ہے، جو مایوسی کو امید میں بدل دیتا ہے۔
3. قرآن سے کلام اللہ اپنے بندے سے بات قرآن کے ذریعے کرتا ہے۔جیسے: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے" (سورہ الانشراح)
خدا سے تعلق کیسے مضبوط کیا جائے؟ نماز کو دل سے ادا کریں نماز صرف فرض نہیں، ایک "ملاقات" ہے۔ جب دنیا کے دروازے بند ہوں تو سجدہ سب سے محفوظ جگہ بن جاتا ہے۔ استغفار کومعمول بنائیں مشکل وقت میں استغفار دل کو ہلکا کرتا ہے، ذہن کو صاف کرتا ہے، اور رب کی رحمت کو کھینچ لاتا ہے۔ تنہائی میں رب کو پکاریں دوسروں کے سامنے کمزور مت بنیں، رب کے سامنے گریہ کریں۔ وہ آپ کے آنسو ضائع نہیں جانے دیتا۔
روحانی اقتباسات جو دل کو چھو جائیں "جب تم سب کچھ کھو بیٹھو، تب یاد رکھو: تمہارے پاس رب اب بھی موجود ہے۔"
"بعض اوقات اللہ لوگوں کو تمہاری زندگی سے اس لیے نکالتا ہے تاکہ تم اُسے پہچان سکو جو کبھی نہیں جائے گا۔"
"تم ٹوٹ کر روئے، وہ قریب ہو گیا۔ تم چیخے نہیں، پھر بھی سن لیا — وہ رب زندگی کے دکھ اور اللہ کی محبت زندگی کے کچھ مراحل ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان کو دنیا کے ہر سہارے سے مایوسی ہوتی ہے، مگر ایک ہستی ہر لمحہ قریب ہوتی ہے — وہ اللہ ہے۔
"برے وقت میں جو تم سے جدا نہ ہو
دھیان رکھنا کہیں وہ خدا نہ ہو"
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ اگر ہم اس کو سمجھ لیں، تو ہر غم، ہر دکھ، ہر ناکامی امتحان محسوس ہوں گے، مستقل درد نہیں۔ اپنے رب سے جڑیں۔ کیونکہ وہی ہے جو آپ کے ساتھ ہر حال میں ہے، ہر موسم میں، ہر دل کی دھڑکن کے ساتھ۔
تحریر فرحین ریاض
.png)