تحریر فرحین ریاض
پارسائی
ایک بیماری جس میں مبتلا شخص کو اپنے علاوہ سب گناہ گار نظر آتے ہیں
پارسائی ایک ایسا رویہ ہے جو بظاہر پاکیزگی اور نیکی کا مظہر ہوتا ہے، لیکن جب یہ حد سے بڑھ جائے تو ایک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پارسائی کی بیماری میں مبتلا شخص خود کو نیکی اور پاکیزگی کا مجسمہ سمجھتا ہے اور دوسروں کو گناہ گار اور کم تر خیال کرتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اس شخص کی خودی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرتی تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پارسائی کی بیماری کی علامات
پارسائی کی بیماری کی چند نمایاں علامات یہ ہیں
خود فریبی
پارسائی کے مریض کو ہمیشہ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ نیک، پاک اور دیانتدار ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر اور اعلیٰ سمجھتا ہے۔
دوسروں کی تنقید
پارسائی کے مریض کا دوسروں پر تنقید کرنا ایک عام رویہ ہے۔ وہ دوسروں کی غلطیوں اور خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور انہیں گناہ گار سمجھتا ہے
خود احتسابی کی کمی
پارسائی کے مریض اپنے اعمال کا جائزہ لینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی غلطیاں نظر نہیں آتیں اور وہ خود کو ہمیشہ حق پر سمجھتے ہیں۔
دوسروں کو حقیر سمجھنا
** پارسائی کے مریض دوسروں کو حقیر اور کم تر سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی نیکی اور پاکیزگی کے زعم میں مبتلا رہتے ہیں اور دوسروں کو گناہ گار اور کم تر تصور کرتے ہیں۔
پارسائی کی بیماری کے اسباب
پارسائی کی بیماری کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں چند اہم یہ ہیں
تعلیمی اور سماجی اثرات
بچپن میں حاصل کی جانے والی تربیت اور تعلیمی ماحول پارسائی کی بیماری کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی طرف سے بار بار نیکی اور پاکیزگی کی تلقین بچے کے ذہن میں یہ رویہ پیدا کر سکتی ہے۔
مذہبی شدت پسندی
** مذہبی شدت پسندی بھی پارسائی کی بیماری کا ایک بڑا سبب ہو سکتی ہے۔ مذہبی تعلیمات کو شدت سے اپنانے والے افراد دوسروں کو گناہ گار سمجھنے لگتے ہیں اور اپنی نیکی اور پاکیزگی پر فخر کرنے لگتے ہیں۔
نفسیاتی مسائل
** کچھ نفسیاتی مسائل بھی پارسائی کی بیماری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ خودی کی کمی، احساس کمتری اور دیگر نفسیاتی مسائل اس بیماری کے پیدا ہونے کا باعث بن سکتے ہیں
پارسائی کی بیماری کے نتائج
پارسائی کی بیماری کے کئی منفی نتائج ہو سکتے ہیں، جن میں چند اہم یہ ہیں.
معاشرتی تعلقات میں بگاڑ
پارسائی کی بیماری کی وجہ سے مریض کے معاشرتی تعلقات میں بگاڑ آ سکتا ہے۔ دوسرے لوگ اس کے رویے سے تنگ آ کر اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔
خود فریبی میں مبتلا ہونا
** پارسائی کے مریض خود فریبی میں مبتلا ہو کر حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔ انہیں اپنی غلطیاں نظر نہیں آتیں اور وہ ہمیشہ خود کو حق پر سمجھتے ہیں۔
ذہنی سکون کا فقدان
پارسائی کی بیماری کی وجہ سے مریض ذہنی سکون سے محروم ہو جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی غلطیوں پر نظر رکھتا ہے اور خود کو ان سے برتر سمجھتا ہے، جس سے اس کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہیں
پارسائی کی بیماری سے نجات کے طریقے
پارسائی کی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے چند اہم طریقے یہ ہیں.
خود احتسابی
پارسائی کے مریض کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ خود احتسابی سے مریض اپنی غلطیوں کو سمجھ سکتا ہے اور انہیں درست کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
دوسروں کو قبول کرنا
** پارسائی کے مریض کو دوسروں کو قبول کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر انسان میں خامیاں ہوتی ہیں اور کوئی بھی مکمل نہیں ہوتا
مذہبی تعلیمات کا درست فہم
:** پارسائی کے مریض کو مذہبی تعلیمات کا درست فہم حاصل کرنا چاہیے۔ اسے سمجھنا چاہیے کہ مذہب انسانیت کی خدمت اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے
نفسیاتی مدد
* اگر پارسائی کی بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نفسیاتی مدد حاصل کرنی چاہیے۔ ماہر نفسیات کی مدد سے مریض اپنے رویے کو سمجھ سکتا ہے اور اسے درست کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ں
پارسائی کی بیماری ایک نفسیاتی اور معاشرتی مسئلہ ہے جو مریض کی خودی اور معاشرتی تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے خود احتسابی، دوسروں کو قبول کرنے، مذہبی تعلیمات کا درست فہم حاصل کرنے اور نفسیاتی مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو پارسائی کی بیماری سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

