جب مرد اور عورت کی شادی ہو جاتی ہے تو ان کی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہو جاتا ہے بزرگ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد میاں اور بیوی دونوں اپنے ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں اور جب ان کے ہاں اولاد ہو جاتی ہے تو پھر وہ دونوں اپنے آپ سے دور ہو جاتے ہیں یہ دونوں رشتے ایسے ہیں کہ شادی سے پہلے اپنے ماں اور باپ دونوں سے بہت زیادہ محبت اور پیار کرتے ہیں لیکن جیسے ہی شادی کے بندھن میں بند جاتے ہیں تو پھر وہ ہی محبت میاں اور بیوی کے درمیان پروان چڑھتی ہے لیکن جب ان کے ہاں اولاد ہو جاتی ہے تو پھر وہ ہی محبت جو ان دونوں کے درمیان ہوتی ہے وہ بچوں میں منتقل ہو جاتی ہے جیسے ہی وہ ماں باپ بن جاتے ہیں تو پھر وہ دونوں اپنا خیال کم اور اپنے بچوں کا زیادہ رکھتے ہیں زندگی کے اس طویل سفر میں شوہر اور بیوی کے درمیان کئی بار تلح کلامی اور کشیدگیاں بھی ہوتی ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جوانی عروج پر ہوتی ہے تو اس وقت انسان کی جو عقل ہے اس کا بچپن ہوتا ہے اس عقل کے بچپن کی وجہ سے انسان کے جزبات اپنے عروج پر ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے انسان کی عمر ڈھلتی جاتی ہے اس کی جسمانی طاقت کا زوال شروع ہو جاتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت وہ بڑھاپے کی عمر میں داخل ہو جاتے ہے اور یہ وقت وہ ہوتا ہے جب انسان کی عقل جوان ہوتی ہے لیکن اس کا جسم کمزور ہو چکا ہوتا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں ک
(جوانی بوڑھی ہو گئی ہے)جب جوانی جوان ہوتی ہے اور عقل میں بچپنا ہوتا ہے تو اس وقت انسان اپنی زندگی کے ساتھی کی قدر نہیں کرتا کیونکہ انسان کے جزبات عروج پر ہوتے ہیں اس جزبات کی روح میں انسان اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوتا ہے اور وہ لوگ جو اپنا سب کچھ لٹا چکے ہوتے ہیں وہ بڑھاپے میں اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ ان کی کمر جھک جاتی ہے وہ سیدھے ہو کر چل بھی نہیں سکتے۔
لیکن جیسے جیسے انسان کی عقل جوان ہوتی ہے تو اس وقت میاں اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرنے لگ جاتا ہے اس وقت اپنی زندگی کے ساتھی کا بہت زیادہ خیال رکھتا ہے یہ وقت ہوتا ہے جب وہ دونوں ایک دوسرے کے غمگسار بن جاتے ہیں لیکن اگر زندگی کے اس موڑ پر کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو دوسرے کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے سب سے زیادہ پریشانی یہ ہے کہ اپنی زندگی کے ساتھی کی جدائی کا غم دوسرے کو دن رات کھائے جا رہا ہوتا ہے اس حالت میں اس کا جو خیال اس کا ساتھی رکھتا تھا کوئی دوسرا نہیں رکھ سکتا جس کی وجہ سے بہت ساری بیماریاں اس انسان میں پیدا ہو جاتی ہیں ایسے افراد جو اپنی زندگی میں ہر کسم کا کام جو مل کر کرتے تھے وہ اچانک سے ختم ہو جاتا ہے اس حالت میں وہ لوگ جن کا مرنا اور جینا ایک ساتھ تھا اور کافی عرصہ گزر جانے تک اس نے کوئی بھی حق زوجیت ادا نہیں کیا اس حالت میں بہت ساری بیماریاں جنم لیتی ہیں لیکن ان بیماریوں کا حکمت میں آسان حل موجود ہے اور بے شمار ادویات ہیں جن کے استعمال سے ان بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے
ایسے میں انکی امیندیں انکی اپنی اولاد سے لگی ہوتی ہے آپ چاہیں پیسوں کا ڈھیر لگادیں انکے سامنے کوئی خوشی نہیں ملنی پر آپ چند منٹ نکال کر بوڑھے ماں باب سے بیٹھ کر انہیں گلے سے لگائیں انکے ساتھ باتیں کریں انکی ضروریات کا خیال رکھیں انشاء اللہ کوئی بھی مرض قریب نہیں آئے گا انکے۔
اللہ ہمیں اپنے ماں باب کا فرماں بردار بنائے آمیین۔
دنیاں مکافاتِ عمل ہیں آج جیسا سلوق اپنے ماں باب سے کریں گے کل آپکی اولاد بھی ایسا کرے گی آپکے ساتھ یہ ایک حقیقت ہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہیں۔
کے ماں باب کے پاس بیٹھنے میں دو بڑے فائدے ہیں
آپ کبھی بڑے نہیں ہوتے اور وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔


